ابنا: اخوان المسلمین کی دعوت پر کل مصر بھر میں فوجیوں کے اقتدار کے خلاف پرامن جلوس نکالے گۓ لیکن اس ملک کی سیکورٹی فورسز کی مداخلت کی وجہ سے یہ مظاہرے جھڑپوں میں تبدیل ہوگۓ۔ قاہرہ ،اسکندریہ اور طنطا سمیت مصر کے مختلف شہروں میں والی جھڑپوں میں کم از کم دو سو افراد ہلاک اور زخمی ہوگۓ ہیں۔ انقلاب واپس لینےکے نام سے یہ مظاہرے ایسی حالت میں کۓ گیۓ تھے کہ جب مصر کی وزارت داخلہ نے تشدد پسندوں کے خلاف کارروائي کرنے کی دھمکی دی رکھی تھی۔ لیکن مصر کے عوام اس دھمکی کو خاطر میں لائے بغیر سڑکوں پر نکل آئے اور انھوں نے قاہرہ کے بڑے بڑے اسکوائر اور اہم شاہراؤں پر فوجی بغاوت سے اپنی مخالفت کا اعلان کیا۔مصر کے بعض شہروں میں ان مظاہروں کے دوران فوجیوں کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان جھڑپیں ہوئيں۔ دریں اثناء محمد مرسی کے خلاف وجود میں آنے والی سول نافرمانی کی تحریک نے مصر کی سیاست میں دینی جماعتوں کے داخلے کے بارے میں خبردار کیا ہے۔ اس تحریک کے بانی محمود بدر نے کہا ہے کہ ایسا قانون منظور کیا جانا چاہۓ جس کی رو سے حسنی مبارک سے تعلق رکھنے والی نیشنل پارٹی نیز اخوان المسلمین کی جماعت بھی مصر کی سیاست میں شامل نہ ہوسکے۔یہ بیانات ایسی حالت میں سامنے آئے ہیں کہ جب مصر کے وزیر اعظم حازم الببلاوی نے حال ہی میں کہا ہےکہ انھوں نے اخوان المسلمین کو کالعدم قرار دینے کا ارادہ ترک کردیا ہے کیونکہ موجودہ نازک صورتحال میں یہ ایک غلط اقدام ہوگا۔مصرکے سلسلے میں یہ بات غور طلب بات یہ ہے کہ موجودہ صورتحال میں اس ملک کے سیاسی اور سماجی میدان میں موثر کسی بھی جماعت اور گروہ کو سیاست سے باہر کرنا ایک اشتعال انگیز اقدام ہے۔ اور اس بات کا ادراک اس ملک کے حکمران فوجیوں کو ہے یہی وجہ ہے کہ انھوں نے اخوان المسلمین کو کالعدم قرار دینے سے صرف نظر کرلیا ہے۔ لیکن اس کے معنی یہ نہیں ہےکہ حکمرانوں اور اخوان المسلمین کے درمیان صلح برقرار ہوگئی ہے کیونکہ اخوان المسلمین کی گرفتاریوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔بعض خبری ذرائع نے بھی لکھا ہے کہ گرفتاریوں کا دائرہ مرسی کے حامیوں سے آگے بڑھ چکا ہے۔ مثلا چند دن قبل جب محمد مرسی پر تنقید کرنے والے محمد البرادعی نے مصر کے فوجی حکمرانوں سے کہا کہ قانون کے نفاذ کے سلسلے میں تشدد سے کام نہیں لیا جانا چاہۓ تو ان پر خیانت سمیت متعدد الزامات لگادیۓ گۓ۔ مرسی کے ایک اور مخالف اور نیشنل سالویشن فرنٹ کے رہنما عمر حمزاوی نے جب سیاست میں فوج کی مداخلت کی مخالفت کی تو ان کو بھی متعدد الزامات کا سامنا کرنا پڑا۔ایسا نظر آتا ہے کہ مصر پر اس وقت ایک طرح کی انتہا پسندی حکمفرما ہے اوریہی انتہا پسندی اس ملک میں کشیدگی کا باعث ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲
30 اگست 2013 - 19:30
News ID: 457862
اخوان المسلمین کی دعوت پر کل مصر بھر میں فوجیوں کے اقتدار کے خلاف پرامن جلوس نکالے گۓ لیکن اس ملک کی سیکورٹی فورسز کی مداخلت کی وجہ سے یہ مظاہرے جھڑپوں میں تبدیل ہوگۓ۔